:????آپ ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ رضی اللّٰه عنہم سے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا
✨مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ تَكُنْ لَهُ نُورًا وَلَا بُرْهَانًا وَلَا نَجَاةً، وَحُشِرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ فِرْعَوْنَ، وَهَامَانَ ، وَقَارُونَ،و أُبَيّ بن خَلَف
???? جس نے نماز کی محافظت کی تویہ عمل قیامت کے دن اس کے لیے نور اور برہان اور نجات کا باعث ہوگا اور جس نےاس پر محافظت نہ کی اس کے لیے نہ نور ہوگا نہ برہان اور نہ عذاب سے نجات۔ وہ قیامت کے دن فرعون ، ہامان ، قارون اور ابی بن خلف کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
اس حديث كو امام احمد نے اسناد حسن کے ساتھ نکالا ہے ۔
اس حدیث کی شرح میں بعض علماء نے کہا ہےکہ نماز کو ضائع کرنے والے کا حشر قیامت کے دن ان کافروں کے ساتھ صرف اس وجہ سے ہو گا کہ :
اگر اس نے ریاست کی وجہ سے نماز کو ضائع کیا تو اسے فرعون سے تشبیہ دی گئی ہے لہٰذا قیامت کے دن وہ فرعون کے ساتھ ہو گا اور اسی کے ساتھ جہنم میں جائے گا ۔
اور اگر نماز ضائع کرنے کا سبب وزارت یا کوئی دوسرا عہدہ تھا تو وہ ہامان سے مشابہ ہے۔ قیامت کے دن اس کے ساتھ اس کا حشر ہو گا اور اسی کے ساتھ جہنم میں جائے گا۔
اور اگر نماز ضائع کرنے کا سبب مال ودولت اور خواہشات ہیں تو اسے قارون سے تشبیہ دی گئی ہے جسے اللہ نے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا تھا۔ جس کی وجہ کثرت مال اور خواہشات کی پیروی کے سبب اس کا حق ٹھکرا دینا تھا ۔ ایسا آدمی قارون کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اسی کے ساتھ جہنم میں جائے گا۔
اور اگر نماز ضائع کرنے کا سبب تجارت اور ایسے ہی دوسرے معاملات تھے، تو اسے ابی بن خلف سے تشبیہ دی گئی ،جو مکہ کے کافروں میں تاجر تھا۔ لہٰذا قیامت کے دن اس کا حشر ابی بن خلف کے ساتھ ہو گااور اسی کے ساتھ وہ جہنم میں جائے گا۔
اللّٰه تعالیٰ ہم اس سب کو نماز کی پابندی کی توفیق عطا فرمائیں اور روز قیامت ہمیں ہماری نمازوں کا نور اور برھان عطا فرمائیں۔